دوہڑے لطیفے پنجابی شاعری فن

Friday, 18 November 2022

نوسر باز کا قصّہ (عربی ادب سے ماخوذ)

ایک دفعہ ایک چالاک اور دھوکے باز شخص نے کہیں سے ایک گدھا چوری کیا اور اسے فروخت کرنے کے لیے قریبی بازار لے گیا۔ بازار جانے سے پہلے اس نے گدھے کے منہ میں اشرفیاں ٹھونس کر کپڑے سے اچھی طرح بند کر دیا

بازار کی پُر ہجوم جگہ پر کھڑے ہوکر اس نے گدھے کے منہ سے کپڑا ہٹا دیا، جیسے ہی کپڑا ہٹا گدھے کے منہ سے اشرفیاں نکل کر زمین پر گرنے لگیں۔ سکّوں کی جھنکار سن کر لوگ متوجہ ہوگئے، اور حیران ہوکر پوچھنے لگے کہ گدھے کے منہ سے سکّے وہ بھی سونے کے! یہ کیا ماجرا ہے؟

Sipahi ki tasweer

ایک آدمی بازار سے گزر رہا تھا تو اچانک اس کی نظر فوٹو شاپ میں ایک پاکستانی فوج کے بہادر سپاہی کی تصویر پے پڑی اسے وہ تصویر پسند آگئی ...

اور سوچا کہ کیوں نہ اس تصویر کو خرید لیا جائے...
اس نے دوکان میں جاکے اس تصویر کی قیمت پوچھی جو کہ 500 روپے تھی
اس نے جیب میں ہاتھ مارا تو صرف 400 روپے ہی نکلے،اس نے کہا کہ 100 روپے کم ہیں تو میں کل آکےخرید لوں گا
لیکن اگلے دن جب وہ آدمی تصویر لینے گیا تو تصویرفروخت ہو چکی تھی 😯😯
کچھ دن بعد جب اس آدمی کو کسی کام سے اپنے دوست کے گھر جانا ہوا تو اس کی نظر اس ہی بہادر فوجی کی تصویر پے پڑی.... 😳
تو اس آدمی نے اپنے دوست سے پوچھا.....!!! یہ کس کی تصویر ہے،
 تو دوست نے جواب دیا کہ یہ میرے دادا جی تھے... 😍
انہوں نے تین جنگوں میں حصہ لیا تھا....

دوست نے آدمی سے کہا..... تم کیوں پوچھ رہے ہو ان کے بارے میں کیا تم ان کو جانتے ہو .....🤔
تو آدمی نے کہا......
   جی میرے بھائی....
            " بس ایک 100 روپے کم پڑ گئے تھے ورنہ آج یہ میرے دادا جی ہوتے"🙊🙈😜

#🔥😇

Sardar and bhens ka lateefa

  • ایک ‏سردار کے ہمسائے کی بھینس کے سینگ بڑے بڑے تھے
  • سردار جب بھی اسکے پاس سے گزرتا، کھڑا ہو کے سوچنے لگتا:
"جے میریاں لتاں ایناں سنگاں وچ پھس گئیاں تے کی ہووے گا"

  • آخر سردار نے اک دن خود ہی اسکے سینگوں میں اپنی ٹانگیں پھنسا دیں
بھینس نے اسے گھما کے نیچے دے مارا تو سردار کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں
‏بھینس کا مالک سردار سے افسوس کرنے آیا اور کہنے لگا میری بھینس نے آپکو مارا اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں مجھے بڑا افسوس ہوا ہے,
سردار بولا "چھڈو جی لتاں دی خیر اے ٹینشن تے مکی کہ لتاں پھسیاں تے کی ہووے گا

Saturday, 12 February 2022

شوہر نے بے سری آواز میں گانا شُرُوع کیا تو بیوی نے فوراً کہا . . . 

میرے ابّا مرحوم جب گانا گاتے تھے تو اڑتے پرندے بھی گر جاتے تھے . 

شوہر نے جل کر کہا : کیوں ، کیا تمہارے ابّا مرحوم منہ میں کارتوس ڈال کر گاتے تھے ؟ 

پولیس انسپیکٹر : 

ہمیں اطلاع ملی ہے كے آپ كے گھر پر دھماکہ خیز مواد موجود ہے 


آدمی : 

جی اطلاع تو ٹھیک ہے لیکن ابھی وہ میکے گئی ہوئی ہے 

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی؛

میں ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ بیگم میرے پاس آ کر بیٹھیں اور پیار سے پوچھنے لگیں کہ ٹی وی پہ کیا ہے؟

میں نے کہا؛

دھول مٹی۔

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی


شادی کی سالگرہ پہ بیگم نے کہا کہ مجھے ایسی جگہ لے جائیں جہاں ہم مدتوں سے نہیں گئے۔

میں اسے اپنے والدین سے ملانے لے گیا۔

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی۔


ایک رات بیگم نے فرمائش کی کہ مجھے مہنگی جگہ ڈنر کرائیں۔

میں پٹرول پمپ لے گیا۔

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی۔


بیگم نیا سوٹ پہن کر آئینے میں دیکھ رہی تھیں۔ کہنے لگیں ماڈل پہ کتنا اچھا لگ رہا تھا۔ میں تو کتنی موٹی، بھدی اور بے ڈول لگ رہی ہوں۔ پلیز میری تعریف میں کچھ کہیں تاکہ میرا موڈ خوشگوار ہو۔

میں نے کہا؛

تمہاری نظر بڑی تیز اور پرفیکٹ ہے۔

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی۔


سبزی والے نے خراب سبزی دی۔ بیگم کہنے لگیں کہ جب پتا ہے کہ یہ کھلا دھوکہ دیتا ہے پھر بھی بار بار اسی کے پاس جاتے ہیں۔

میں نے کہا؛

تمہارے میکے بھی تو جاتا ہوں۔

اور پھر لڑائی شروع ہوگئی۔ 

آئینہ کے سامنے کھڑی بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا

*"کیا میں بہت موٹی لگ رہی ہوں"*

جھگڑا نہ ہو جائے یہ سوچ کر شوہر مسکرا کر بولا

*"ارے نہیں بالکل بھی نہیں"*

بیوی خوش ہوگئی اور رومانٹک ہوکر بولی

*"ٹھیک ہے تو پھر مجھے اپنی بانہوں میں اٹھا کر فریج تک لے چلو مجھے آئسکریم کھانی ہے"*

حالات کنٹرول کے باہر جاتا دیکھ پریشان شوہر بولا

*" جان من تم یہی رکو میں فریج اٹھا کر لے آتا ہوں"* 

بیگم : سنوجی سرکس دیکھنے چلیں؟


شوہر : نو . . . . . . . . . آئی ایم بزی . .


بیگم : اس میں اک لڑکی نے بنا کپڑوں کے شیر پہ سواری کی ہے . . . . 


شوہر : بہت ضدی ہو گئی ہو . . . .

 ہر بات ضد کرکے منوالیتی ہو . . . .

چلو بہت دن ہوئے شیر نہیں دیکھا۔


اس کے آگے کی کہانی .۔۔۔

۔


میاں بیوی پِھر سرکس دیکھنے گئے .

 شوہر نے سب سے آگے والی سیٹ کی ٹکٹ بھی لے لی

شیر والا شو آیا اور چلا گیا پر بنا کپڑوں کی لڑکی نہیں آئی . . .

 سرکس شو ختم ہو گیا . . .


شوہر : تم نے تو کہا تھا کی اک لڑکی بنا کپڑوں کے آئیگی ؟


بیگم : بنا کپڑوں كے شیر کہا تھا ، لڑکی نہیں . . . . . . . .

۔

۔

۔

۔


اگر آپ لوگوں کو بھی یقین نہیں تو پوسٹ کو دوبارہ 

پڑھ لیں۔🤔😎😊🤗 

شادی کے بعد

 *شادی کے بعد ایک سادہ آدمی اور اور اردو دان کی ملاقات ہوئی۔ دونوں بغل گیر ہوئے اور ایک دوسرے کی شادی شدہ زندگی کا حال پوچھنے لگے۔*


*" سناؤ! کیسا گزر رہا ہے لائف؟" سادہ آدمی نے پوچھا۔*


*اردو دان کا جواب:*

*" الحمد للہ سب فٹ ہے۔ آپس میں بہت انڈر سٹینڈنگ ہے۔ صُبح ہم دونوں مل کر ناشتہ بناتے ہیں،، پھر باتوں باتوں میں برتن دھو لیتے ہیں، پھر پیار پیار سے مل بانٹ کر کپڑے دھو لیتے ہیں۔*

*کبھی وہ ڪسی خاص ڈِش کی فرمائش کر دیتی ھے اور کبھی میں اپنی مرضی سے کچھ پکا لیتا ہوں،،*

*ماشا اللّہ میری بیوی بہت صفائی پسند ہے۔ بس اِسی وجہ سے گھر کی صفائی ستھرائی میری ذمہ داری ہے،،*


*اردو دان نے پوچھا:*

*"تم سناؤ ، تمہاری زندگی کیسی گزر رہی ہے؟"*


*سادہ آدمی : " او یارا،،،،، ذلت تو ہمارا بھی اتنا ہی ہو رہا ہے جتنا تمہارا.. لیکن ہمارا اردو اتنا مزے کا نہیں ہے ۔

آپریشن مریض اور ڈاکٹر

آپریشن کے بعد مریض کے رشتہ دار ڈاکٹر سے ،،،


*ڈاکٹر صاب مریض کو کھانے کے لئے کیا دیں ؟*


نرم غذا دیں۔


او کیہڑی؟


دلیا ، کھچڑی ڈبل روٹی بسکٹ پھل جوس وغیرہ۔


پھل کہیڑے۔۔۔۔۔سارے؟ "فروٹر" کھلا دیئے؟


ہاں دے دیں۔


پر ایہہ تے کھنگ کر سکدا اے جی؟


اچھا۔ نا دیں۔


نئیں ڈاکٹر صاحب جے ضروری اے تاں کھلا دیندے آں جی۔ پر روٹی توں پہلے دیئے یا بعد چے؟


او بھائی ابھی کھانا نہیں دینا۔


تو مریض کیا کھاوے۔ خوراک دا تے دس دیو۔


نرم غذا کھلائیں۔ دلیا کھچڑی پھل ڈبل روٹی جوس وغیرہ۔


گوشت کیہڑا کھلائیں؟


ابھی گوشت نہیں دینا۔


چھوٹا یا بڑا کوئی بھی نئیں دینا ؟ مرغی وی نئیں؟


نہیں مرغی بھی نا دیں ؟


تے مچھلی ڈاکٹر صاب؟


نہیں۔


چوچا یا بٹیر دے دیئے؟


نہیں بابا ابھی کوئی پکانے والی چیز نہیں دینی۔


دودھ تے پلا سکدے آں؟


ہاں دے دیں۔


کیہڑا؟

کچا ۔۔۔۔۔۔یا کا ڑھ کےَ؟


کا ڑھ کے۔


ٹھنڈا یا گرم؟


نیم گرم، کوسا کر کے دے دیں


کنّاں کوسا ؟


ہلکا کوسا ۔


انّی دیر میں دوسرا رشتے دار بندہ۔ ۔ ۔


چھڈ ۔۔ تجھے تو سمجھہ ہی نئی آندی۔ مینوں پچھن دے۔ ۔ ۔

جی ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔ *مریض نوں خوراک کیہڑی دیئے--- 

شوہر اور بیوی

میرے ہمسایہ جمیل صاحب نے ایک دن مجھ سے ایک سوال کیا۔ 

بھائی یہ بتاؤ۔ میرے ماں باپ کا ایک بچہ ہے۔ وہ نہ میرا بھائی ہے نہ بہن۔ بتاؤ وہ کون ہے؟

میں کافی دیر سوچتا رہا۔ آخر نفی میں جواب دیا۔ 

سوری جمیل صاحب میں نہیں جانتا۔

جمیل صاحب ہنس کر بولے۔ ارے اتنا آسان سوال نہیں بوجھ سکے۔ 

وہ میرا بھائی بھی نہیں اور بہن بھی نہیں تو لازمآ وہ میں ہی ہوں۔

مجھے بہت شرمندگی ہوئی کہ واقعی یہ تو بہت آسان سوال تھا۔ ویسے مجھے یہ سوال دلچسپ بھی لگا۔

گھر آیا تو یہی سوال میں نے اپنی بیگم سے کر دیا۔ 

کہ میرے ماں باپ کا ایک بچہ ہے۔ وہ نہ تو میرا بھائی ہے نہ ہی بہن۔ بتاؤ وہ کون ہے؟

بیگم کافی دیر سوچتی رہی۔ آخر اس نے بھی ہار مان لی۔

تو میں نے طنزیہ(بہت عرصے کے بعد طنز کرنے کا موقع ملا)ہنستے ہوئے کہا۔ ویسے تو تم مجھے باتوں میں پورا نہیں ہونے دیتی۔ اور اب ایک آسان سے سوال کا جواب نہیں دے سکیں۔ 

ارے وہ کوئی اور نہیں ہمارے ہمسائے جمیل صاحب ہیں۔

اس کے بعد آہستہ سے بیگم سے پوچھا!

تھوڑی شرمندگی تو ہوئی ہو گی؟ 

ویٹرنری ڈاکٹر اور کتا

الله بندے کو سزا کیوں دیتا هے؟ مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا که آج تک مطمئن هوں

همارے ویٹنری ڈپارٹمٹ کے ایک پروفیسر تھے ____ میرے اُن سے اچھے مراسم تھے

یه یو نیورسٹی میں میرا تیسرا سال تھا _____

اک دفعه میں انکے دفتر گیا۔

مجھ سے کہنے لگے: اک مزے کی بات سناؤں تمهیں 

پچھلے هفتے کی بات هے

میں اپنے دفتر می‍ں بیٹھا تھا

اچانک اک غیر معمولی نمبر سے مجھے کال آئی:

"پندره منٹ کے اندر اندر اپنی سراونڈگنز کی کلیئرنس دیں!""________

ٹھیک پندره منٹ بعد پانچ بکتر بند گاڑیاں گھوم کے میرے آفس کے اطراف میں آکر رکیں

سول وردی میں ملبوس تقریباً حساس اداروں کے لوگ دفتر می‍ں آئے؛ ایک آفیسر آگے بڑھا _____

" """'"امریکه کی سفیر آئی هیں ____ ان کے کتے کو پرابلم هے اسکا علاج کریئے ___""""

تھوڑی دیر بعد اک فرنگی عورت اور اس کے ساتھ ایک عالی نسل کے کتے کے ساتھ داخل هوئی __

کہنے لگی : میرے کتے کے ساتھ عجیب و غریب مسئله هے ؛ یه نافرمان هوگیا هے ____

اسے میں پاس بلاتی هوں یه دور بھاگ جاتا هے

خدارا کچھ کریے یه مجھے بہت عزیز هے اس کی بے عتنائی مجھ سے سهی نهیں جاتی

میں نے کتے کو غور سے دیکھا ___

پندره منٹ جائز لینے کے بعد میں نے کہا

میڈم!! یه کتا ایک رات کے لیے میرے پاس چھوڑ دیں میں اسکا جائزه لے کے حل کرتا هوں

اس نے بے دلی سے حامی بھرلی _______

سب چلے گئے ____

میں نے کمدار کو آوز لگائی

فیضو! اسے بھینسوں والے بھانے میں باندھ کے آ۔۔۔

اور سن! اسے هر آدھے گھنٹے بعد چمڑے کے لتر مار۔۔

هر آدھے گھنٹے بعد صرف پانی ڈالنا ___ جب پانی پی لے تو پھر لتر مار______!!!

کمدار جٹ آدمی تھا۔ ساری رات کتے کے ساتھ لتر ٹریٹ منٹ کرتا رها ______

صبح میں پورا عمله لئے میرے آفس کے باهر سفیر زلف پریشاں لئے آفس میں آدھمکی

Sir! What about my pup ?

I said ___Hope your pup has missed you too .....

کمدار کتے کو لے آیا ____

جونهی کتا کمرے کے دروازے میں آیا

چھلانگ لگا کے سفیر کی گود میں آبیٹھا

لگا دم هلانے منه چاٹنے ________!!!

کتا مُڑ مڑ تشکر آمیز نگاهوں سے مجھے تکتا رها _____

میں گردن هلا هلا کے مسکراتا رها_____

سفیر کہنے لگی: سر آپ نے اسکے ساتھ کیا کیا که اچانک اسکا یه حال هے _____؟؟؟

میں نے کہا:

ریشم و اطلس، ایئر کنڈیشن روم، اعلی پائے کی خوراک کھا کھا کے یه خودکو مالک سمجھ بیٹھا تھا اور اپنے مالک کی پہچان بھول گیا ____ بس

اس کا یه خناس اُتارنے کے لیے اس کو ذرا سائیکو لو جیکل + فیزیکل ٹریٹمنٹ کی اشد ضروت تھی ____وه دےدی۔۔۔ ناؤ هی از اوكے

Now he is Okay)(اک عزیز دوست کی جانب سے) 

بیٹا اور ماں

ﺁﭨﮫ ﺳﺎﻟﮧ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻧﺌﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭘﺮﺍﻧﯽ

ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﺌﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﭽﯽ ﮨﮯ

ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ

ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﮬﻮﺗﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻼﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮬﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﺗﯽ

ﻧﺌﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮬﮯ

ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺳﺐ ﮐﯽ ﻣﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺳﺪﺍ ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﮮ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻟﻤﺒﯽ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﺪﺍ ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ۔ 

شوہر بیوی

بیوی::آفس سے واپسی پر سبزی لیتے آنا.اور نیلم سلام کہ رہی ہے.

#شوہر::کون نیلم؟؟🤔

#بیوی::کوئی نہیں بس اس لیۓ لکھا کہ تم میسج پڑھ لو..😂😂

#شوہر::وہی تو میں کہو نیلم تو میرے ساتھ ہے،تو تمہارے ساتھ کون ہے؟؟🤔

#بیوی!!کون نیلم کدھر ہو تم؟😠😠😠

#شوہر::میں بازار میں....😉

#بیوی!!اُدھر ہی رکو میں زرا آتی ہو،🏃👈🏃

10دس منٹ بعد #بیوی::کدھر ہو میں بازار میں ہو🤔

#شوہر::آفس ہی ہوں ،اب آگئ ہو تو سبزی لیتے جانا😂😂

                            # وڈی آئی نیلم😁😁😁


استاداں نال استادیاں 👫 

کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں

آپ نے یہ منقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر کے پیچھے کی داستان کا نہیں پتا ہوگا ۔

کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے،

ایک دن معملات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،

(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتے تھے)

بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جاپہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا

وائسرائے۔ نام؟

کھڑک سنگھ'

وائسرائے۔ تعلیم؟

کھڑک سنگھ۔ "تسی مینو جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"

وائسرائے ہنستے ہوئے 'سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے'؟

کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے " بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں"

وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جن نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کردیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔

اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا،،

کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی خاتون تھی ۔

جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے ۔

۔

ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا 'مائی لاڈ یہ عورت کرانتی کور ہے اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے'

جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔

عورت بولی- "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں رانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا"

جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصہ سے دیکھا اور پوچھا 'کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا'؟

دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا 'نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھایا تھا"

کھڑک سنگھ نے غصہ سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مرگیا نا؟

پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لاڈ رکھئے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟

جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟

'جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے' پولیس والے نے جواب دیا۔

تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کررہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے ۔

فیصلے میں لکھا تھا ( ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ)

پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی ہر لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کامپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نا پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہیں ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔

اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجاۓ گی 

قصہ بادشاہ اور وزیر کا

 ایک بادشاہ تھا وہ جو بھی بات کرتا تو وزیر کہتا اسی میں کوی بہتری ھو گی۔

.ایک دفعہ بادشاہ کی انگلی کٹ گئی وزیر نے کہا اس میں اللہ کی کوی بہتری ھوگی بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ میری انگلی کٹ گئی ھےاور تم کہہ رھے ھو کہ اسمیں بھی اللہ کی کوی بہتری ھوگی۔

.بادشاہ نے وزیر کو جیل میں ڈال دیا تو پھر بھی وزیر نے کہا کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی بہتری ھوگی بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔

.

ایک روز بادشاہ شکار کے لئے اپنے علاقے سے دور نکل گیا اور جنگل میں ایسی علاقے میں چلا گیاجہاں پر ایسے لوگ رھتے تھے کہ وہ لوگ سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے انہوں نے باشاہ کو پکڑلیا جب اس کو زبح کرنے لگے تو انہوں نے دیکھا بادشاہ کی انگلی کٹی ھوی ھے انہوں نے بادشاہ کو چھوڑ دیا کہ ھم ایسے شخص کو قربان نہیں کرتے جو عیب دار ہو اس وجہ سے انہوں نے بادشاہ کو چھوڑ دیا۔

بادشاہ واپس آتا ھے وزیر سے بہت خوش ھوتا ھے اس کو بلاتا ھے اور کہتا ھے واقعی اللہ کے ھرکام اللہ کی کوی بہتری ھوتی ھے میری انگلی کٹی تھی میری جان بچ گئی جب میں نے تمہیں جیل میں ڈالا اس وقت بھی تم نے یہی کہا ۔

تمہارے جیل جانے میں کیا بہتری تھی؟

وزیر کہتا ھے اگر میں جیل میں نہ ھوتا آپ نے مجھے شکار پر لے کر جانا تھا آپ کی انگلی کٹی تھی آپ کو انہوں نے چھوڑ دینا تھا اور آپ کی جگہ انہوں نے مجھے زبح کر دینا تھا اب سمجھ آی کہ اللہ کے ھر کام میں بہتری ھوتی ھے ....

اے انسان!! تقدیر کے لکھے پر کبھی شکوہ نہ کیا کر،

تو اتنا عقل مند نہیں جو "رب" کے ارادے کو سمجھ سکے-

پوسٹ پسند آئے تو اپنے دوستوں سے شیئر ضرور کیا کریں۔۔۔

جزاک اللہ ۔۔

چالباز

ایک دور دراز گاؤں تھا جس میں سیدھے سادے لوگ تھے۔ 

   

 ایک دھوکے باز شخص نے اپنی خوبی کو استعمال کرتے ہوئے اُن پر حکومت کی۔

 

 اتفاقی طور پر ، ایک استاد اس گاؤں میں گیا 

 

 وہ دھوکے باز کی چالوں کو سمجھ گیا اور کہا کہ اگر وہ باز نا آیا تو سب لوگوں کو اُس کی سچائی بتائے گا 


دھوکے باز کو کوئی فرق نا پڑا 


اُستاد گاؤں کے لوگوں کے پاس گیا اور دھوکے باز کی چالوں سے خبردار کیا 


دھوکے باز کے کچھ پیروکاروں نے استاد کو جھوٹا قرار دیا اور بحث شروع کردی 


کافی دیر بحث کے بعد گاؤں کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں کے مابین مقابلہ کرایا جائے تا کہ پتا چلے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا 


مقررہ دن سب لوگ اکٹھے ہوئے کہ آخر کیا ہوگا 


چالباز نے استاد سے کہا کہ سانپ لکھو 


استاد نے زمین پر لکڑی سے لکھا : " سانپ "


اب چالباز نے وہی لکڑی پکڑی اور زمین پر سانپ کی شکل کھینچی 


اور لوگوں سے کہا :  


" تم سب فیصلہ کرو کہ اِن دونوں میں سے کونسا سانپ ہے "


اَن پڑھے لوگوں نے سانپ لفظ پر کوئی توجہ نہیں دی لیکن سب کو سانپ کی شکل معلوم تھی 


وہ سب استاد پر جھوٹا کہتے ہوئے چڑھ دوڑے اور اس کی پٹائی کرنے کے بعد اُسے گاؤں سے نکال دیا 


ہمارے معاشرے میں چالاک بازی لے جاتا ہے جبکہ سچے کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے 

پاکستانی سیلز مین

صرف مسکرائیے 😂😁😀


ایک نوجوان نے کراچی کی ایک کمپنی سے سیلزمینی کی جاب چھوڑی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کینیڈا چلا گیا۔۔۔۔وہاں اس نے ایک بڑے ڈیپارٹمینل اسٹور میں سیلزمین کی پوسٹ پر ملازمت کیلئے اپلائی کیا۔۔۔۔اس اسٹور کا شمار دنیا کے چند بڑے اسٹورز میں ہوتا تھا جہاں سے آپ سوئی سے جہاز تک سب کچھ خرید سکتے ہیں۔۔۔


اسٹور کے مالک نے انٹروویو کے دوران پوچھا

"آپکے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ کا تعلق کسی ایشیائی ملک پاکستان سے ہے۔۔۔پہلے بھی کہیں سیلزمینی کی جاب کی "


"جی میں آٹھ سال کراچی پاکستان کی ایک کمپنی میں جاب کر چکا ہوں"


مالک کو یہ لڑکا پسند آیا

"دیکھو۔۔۔میں آپ کو جاب دے رہاہوں۔۔۔آپ نے اپنی کارگردگی سے میرے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔۔۔کل سے آ جاؤ۔۔۔۔گڈلک"


اگلے دن وہ پاکستانی لڑکا اپنی جاب پر پہنچا۔۔۔پہلا دن تھا۔۔۔طویل اور تھکا دینے والا دن۔۔۔بہرحال شام کے چھ بج گئے۔۔۔


مالک نے اسے اپنے دفتر میں بلایا

" ہاں بھئی۔۔اپ نے آج دن میں کتنی سیل ڈیل کیں؟"

"ایک" اس نے جواب دیا

"صرف ایک" مالک مایوسی سے بولا "دیکھو۔۔۔میرے سیلزمین دن میں کم سے کم 20 سے 30 ڈیلز کرتے ہیں۔۔۔آپ کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا ورنہ مشکل ہو جائیگی"

"بہتر سر"


مالک نے پھر پوچھا "اچھا۔۔۔یہ بتاؤ تمہاری یہ ڈیل کتنے ڈالر کی تھی؟"


"سر نو لاکھ پچاس ہزار سات سو نو ڈالر کی" وہ بولا


"کیا۔۔۔نو لاکھ ڈالر۔۔۔۔نو لاکھ ڈالر کی ایک ڈیل" مالک حیرت سے کھڑا ہو گیا تھا

"نو لاکھ نہیں۔۔۔۔سر۔۔۔نو لاکھ پچاس ہزار سات سو نو ڈالر"


"او خدا کے بندے! کیا بیچا" ملک چیخ ہی پڑا تھا


"سر! ایک آدمی آیا ۔پہلے میں نے اسے مچھلی پکڑنے والی چھوٹی، پھر درمیانی اور پھر سب سے بڑی رسی ROD بیچی۔۔۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ وہ مچھلی کہاں پکڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ کہنے لگا کہ سمندر کے خاموش پانیوں میں۔۔۔تو میں نے اسے کہا کہ تب تو اسے ایک کشتی کی ضرورت ہو گی۔۔۔۔میں اسے کشتی والے پورشن میں لے گیا۔۔۔اس نے ایک بڑی کشتی خریدی۔۔۔پھر میں نے اس سے کہا کہ اس کی گاڑی یہ کشتی ساحل تک نہیں لے جا سکے گی۔۔۔۔میں اسے آٹوموبائل والے پورشن میں لے گیا۔۔۔۔جہاں اس نے ایک 4*4 بلیزر گاڑی خریدی۔۔۔۔پھر میں اسے کہا کہ "آپ کسی ہوٹل کے خشک کمرے میں ٹھہرینگے یا رونق بھرے جگمگاتے جاگتے ساحل پر" اسے میرا آئیڈیا پسند آیا۔۔۔اور ساحل پر رات گزارنے کیلئے ایک 6*6 کا خیمہ ، خیمہ ڈیپارٹمنٹ سے خریدا۔۔۔کھانے پینے کی چیزوں، میوزک سسٹم ، کچھ دیگر ضروری سامان کے علاوہ دو کارٹن بیئر کے خریدے۔۔۔"


مالک گویا پاگل ہونے کو تھا۔۔۔"یعنی۔۔۔ایک ہی گاہک کو تم نے یہ سب کچھ بیچا۔۔۔ایک ہی گاہک جو صرف مچھلی پکڑنے والی چھوٹی Rod خریدنے آیا تھا"


"جی نہیں۔۔۔۔وہ بوریت اور یکسانیت کی وجہ سے سر میں ہونے والے درد کو دور کرنے کیلیے گولی خریدنے آیا تھا۔۔۔میں نے اسے بتایا کہ گولی کی بجائے وہ مچھلی پکڑنے جیسی دلچسپ ایکٹویٹی کیوں شروع نہیں کر دیتا۔۔۔۔۔بس پھر اس نے ایک ڈالر کی دو گولیوں کی ڈیل کی بجائے ساڑھے نو لاکھ۔۔۔۔۔ "


مالک "او بھائی۔۔۔۔تو کہاں سے آیا ہے۔۔۔"


"سر یہ سب ہم نے عمران خان صاحب سے سیکھا ہے"


اس نے عوام کو موٹی ویٹ کیا کہ 65 کا پٹرول مہنگا ہے تمہیں 120 کا سستا والا پٹرول خریدنا چاہیے

🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏🙏 

Friday, 11 February 2022

یہ نظم آج سے 35 سال قبل حکیم سعید صاحب نے کہی تھی ،

جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے

وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے


اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ

تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ


*جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا

اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا*


*جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس

*مربّہ آملہ* کھا یا *انناس*


اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی

تو پی لی *سونف یا ادرک* کا پانی


تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے*

تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے


جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے

تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے*


اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل

تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل


جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس

تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس


شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی

تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی*


اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے

تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے


اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے*

تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے


*تپ دق* سے اگر چاہیے رہائی

بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی


*دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی

*کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی*


اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی

تو استعمال کر *انڈے کی زردی*


جو *بد ہضمی* میں تو چاہے افاقہ

تو *دو اِک وقت* کا کر لے تو *فاقہ*

*لائف کو سپورٹ کریں*

 یہ پیغام پیاروں تک پہنچائیں


*جزاک اللّہ عزوجل. 

اگر آپکے حالات بگڑ جاۓ تو خوفزدہ نہ ہو

ایک بحری جہاز میں کافی بوجھ تھا سفر کے دوران طوفان کی وجہ سے ہچکولے کھانے لگا جہاز ڈوبنے کے قریب تھا ، لہذا اس کے کپتان نے تجویز پیش کی کہ جہاز پر بوجھ ہلکا کرنے اور زندہ رہنے کے لئے کچھ سامان کو سمندر میں پھینک دیا جائے۔

تو انہوں نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک سوداگر کا سارا سامان چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ ڈوبنے سے بچنے کے لیے بہت ہوگا ،

جس تاجر کا سامان پھینکا جانا تھا اس نے اعتراض کیا کہ کیوں اسکا ہی سارا سامان پھینکا جائے اور تجویز پیش کی کہ سارے تاجروں کے سامان میں سے تھوڑا تھوڑا پھینکا جائے تا کہ نقصان تمام لوگوں میں تقسیم ہو اور نہ صرف ایک شخص متاثر ہو۔

تب باقی سارے تاجروں نے اس کے خلاف بغاوت کی ، اور چونکہ وہ ایک نیا اور کمزور سوداگر تھا ، اس لئے انہوں نے اس کے سامان کے ساتھ اسے سمندر میں پھینک دیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔

لہروں نے سوداگر کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔

جب وہ بیدار ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ لہروں نے اسے کسی نامعلوم اور ویران جزیرے کے کنارے پھینک دیا ہے۔

سوداگر بہت مشکل سے اٹھا اور سانس لیا یہاں تک کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گیا اور خدا سے مدد کی درخواست کی اور کہا کہ وہ اسے اس تکلیف دہ صورتحال سے بچائے ..


کئی دن گزرے ، اس دوران تاجر نے درختوں کے پھل اور خرگوش کا شکار کر کے گزارا کیا

اور پانی قریبی ندی سے پیتا ... اور رات کی سردی اور دن کی گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے درخت کی لکڑی سے بنی ایک چھوٹی جھونپڑی میں سوتا۔

ایک دن ، جب تاجر اپنا کھانا بنا رہا تھا ، تیز آندھی چل رہی تھی اور اس کے ساتھ لکڑی کی جلتی ہوئی لاٹھی اٹھ جاتی ہے ، اور اس کی لاپرواہی میں اس کی جھونپڑی میں آگ لگ جاتی تھی ، لہذا اس نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔

لیکن وہ ایسا نہ کر سکا ، کیوں کہ آگ نے پوری جھونپڑی کو اس کے ساتھ ہی بھسم کردیا

یہاں سوداگر چیخنے لگا:

"کیوں ، رب ..؟

مجھے غلط طریقے سے سمندر میں پھینک دیا گیا اور میرا سامان ضائع ہوگیا۔

اور اب تو یہ جھونپڑی بھی جو میرے گھر ہے جل گئی ہے

اور میرے پاس اس دنیا میں کچھ نہیں بچا ہے

اور میں اس جگہ پر اجنبی ہوں ..

یاﷲ یہ ساری آفتیں مجھ پر کیوں آتی ہیں ..


اور سوداگر غم سے بھوکا ہی رات کو سو گیا۔

لیکن صبح ایک "حیرت انگیز واقعہ"اس کا انتظار کر رہا تھا ... جب اسے جزیرے کے قریب پہنچنے والا ایک جہاز ملا اسے بچانے کے لئے ایک چھوٹی کشتی سے اتر رہا تھا ...

اور جب سوداگر جہاز پر سوار ہوا تو خوشی کی شدت سے یقین نہیں کر پا رہا تھا ، اور اس نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے اسے کیسے ڈھونڈا اور اس کا ٹھکانہ کیسے جانا؟

انہوں نے اس کا جواب دیا:

"ہم نے دھواں دیکھا ، لہذا ہمیں معلوم ہوا کہ کوئی شخص مدد کے لئے پکاررہا ہے ، لہذا ہم دیکھنے آئے"


اور جب اس نے اُن کو اپنی کہانی سنائی کہ کس طرح اسے ناجائز طریقے سے سوداگروں کے جہاز سے پھینک دیا گیا

انہوں نے اسے بتایا "کہ سوداگروں کا جہاز منزل تک نہیں پہنچا

ڈاکوں نے اس پر چھاپہ مارا ، سب کو لوٹ لیا اور لوگوں کو مار ڈالا "۔

تو سوداگر روتے ہوئے سجدہ کرتا ہے اور کہتا ہے ، یاﷲ یاﷲ ، تمہارے سب کام اچھے ہیں۔

پاک ہے وہ رب " جس نے قتل سے بچایا اور اس کے لیے بھلائی کا انتخاب کیا"۔


اگر آپ کے حالات بگڑ جاتے ہیں تو خوفزدہ نہ ہوں ..

بس اتنا بھروسہ کریں کہ خدا ہر چیز میں حکمت رکھتا ہے

یہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا بہترین ...

اور جب آپ کی جھونپڑی جل جائے گی ...

جان لو کہ خدا آپ کے امور کا انتظام کر رہا ہے اور آپ کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے. جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ جو کرتا بہتر کرتا ہے


_عربی_سے_ترجمہ_ 

نوسر باز کا قصّہ (عربی ادب سے ماخوذ)

ایک دفعہ ایک چالاک اور دھوکے باز شخص نے کہیں سے ایک گدھا چوری کیا اور اسے فروخت کرنے کے لیے قریبی بازار لے گیا۔ بازار جانے سے پہلے اس نے گدھ...